ظلم کے یہ ظابطے ہم نہیں مانتے ہم نہیں مانتے۔یہ ہیں وہ صدائیں جو ہمارے تریسٹھویں یومِ آزادی کے مو قع پر پاکستان کے گلی کوچوں میں آج بھی بلندہیں۔ ایک نظریئے، عقیدے، فکر، اور سوچ کی بنیاد پر وجود میں آنے والا یہ ملک بڑی عظیم قربانیوں اور خون کے نذرانوں کے بعد حاصل ہوا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کے نعرے کے تحت بننے والے اِس ملک کے باسیوں نے سوچا تھا کہ ہمارا ایک ایسا ملک ہو جہاں وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے اور نظریات کے مطابق زندگیاں بسرکر سکیں اور ہم غلامی کی زنجیر و ں سے نکل کر آزاد فضاؤوں میں سانس لے سکیں لیکن بد قسمتی سے یہ خواب تو تعبیر ہونا درکنار ہمیں دکھوں، المیوں، حادثات سے نجات ہی نہ مل سکی اور بھوک، افلاس، مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت اِس قوم کا مقدر بن گی۔اِسلامی جمہوریہ پاکستان کےنام سےبننےوالے اِس ملک میں آج تلک اِسلام کا نفاذ ہو سکا، نہ جمہوریت پروان چڑھ سکی اور نہ ہی یہ پا ک لوگوں کے رہنے کی جگہ بن سکا۔ مجھے بھی اپنے ملک اور اِس کی مٹی سے اتنا ہی پیار  ہے جتنا یہاں کے ایک عام غریب شخص کو، لیکن اِس جاگیردار، سرمایہ دار، زردار طبقے سے باغیانہ سوچ رکھتا ہوں جنہوں نے میرے ہم وطنوں کے چہروں سےخوشیاں چھین کر اِن پر مایوسیاں بکھیر دیں اور لوگ آزادی کی خوشیا ں منا نے کے برعکس تریسٹھ سال گزرنے کے بعد بھی انصاف کو ترس رہے ہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کے برعکس لاٹھی، گولی اور مارشل لاءاس قوم کامقدر بن چکا ہے۔ اِس قوم کے مقدر پر رونےکو تو بہت دِل کرتا ہےلیکن اِن پندرہ کروڑجنازوں پر رونے کےلیےآنسو کہاں سے لاؤں جو زبان تو رکھتے ہیں مگر بولتے نہیں، عقل و شعور تو رکھتے ہیں اِسکا اِستعمال نہیں کرتے، غصہ اور نفرت تو سینو ں میں بسائے بیٹھےہیں اِسکا اظہار نہیں کرتے اور  اِس کرپٹ جاگیردارانہ   اور ٹھیکیدانہ جمہو ریت کا پتر جمہورا بن چکے ہیں۔ اور آج ہم ایک ایسی بدنصیب ٹرین پر سوار ہیں جِسکی منزل اور نہ کوئی ٹھکانہ اور جِسے بار بار ریورس کا گئیر لگ رہا ہے۔  نظریہء پاکستان کی محافظت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حکمرانوں نےنہ صرف آئینِ پاکستان کو بارہا توڑا بلکہ اداروں کو کمزور اور عدلیہ کی آزادی پر بھی کاری ضرب لگائی۔یہ کیسا ملک کہ جہاں اہلیت کا میعار  کرپشں اور خوشامد ہے ۔ سچائی جرم اور جھوٹ فرضِ عین۔ اِس ملک کے حاکم تو بدلے، آئین بنے اور ٹوٹے، بادشاہ سلامت معا ئیدے کرکے ملک سے  بھاگتے اور واپس آتے رہے، بہت تبدیلیاں آئیں، بدلی تو غریب کی تقدیر نہ بدل سکی۔ اے خدایا تو ہی ِاس ملک کے باسیوں کی تقدیر بدل دے جو تیرے نام پہ بنا تھا۔ میرے اللہ یہ کیسی نم مٹی کے جِسکے باسیوں کی حسرت بھری نگاہوں سے نمی ختم ہونیکا نام نہیں لے رہی اِنکی آنکھوں میں خوشی کی لہر لوٹا دے اور انہیں بھی نویدِ سحر دے۔ہماری آزادی اظہار و رائے پر کب تلک ڈاکہ زنی ہوتی رہیگی اور ہم کب تک جہالت، غربت، بیروزگاری اور لاقانونیت کی دلدل میں پھنسے رہیں گے ہمیں آج سوچنا ہو گا کہ حکمران کب تک اپنے فیصلے وسیع تر قومی مفاد میں قرار دیتے رہینگے اور یہ کھوکھلے نعرے،  تقریریں اور تالیاں کب تک چلیں گی۔اگر ہم بحیثیت زندہ قوم اب بھی حالات کے بدلنے کی آرزو رکھتے ہیں تو ہمیں اپنے رویّوں اور ترجیحات کو تبدیل کرنا ہوگاورنہ یہ حکمران اپنے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ اور اپنی شکستوں کو فتوحات میں تبدیل کرتے رہینگے۔لیکن میں کیا کہوں ہم ظلم تو سہتے ہیں مگر بغاوت نہیں کرتے، اپنے اس مزاج کو تبدیل کرنا ہوگا۔ یاد رہے ظالم اسوقت تک ظالم رہتا ہے جب مظلوم مظلوم بنا رہے۔ امیر المومنین حضرت علی کا فرمان کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں۔جسکا عملی مظاہرہ اِیران کی سڑکوں پر دنیا نے دیکھا کہ جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں تو پھر  شاہِ ایران جیسے ظالم، جابر اور طاقتور ترین شخص کو  بھی اپنے تمام تر جاہ و جلال کے باوجود ملک سے بھاگنا پڑتا ہے۔ اور ایمانی طاقت کے ساتھ امام خمینی جیسے انقلاب قوموں کی زندگی بدل سکتے ہیں۔.........

/110